صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کو ضلع کرک میں سونے کی تلاش، کھدائی اور نکالنے سے متعلق غیر قانونی اور غیر مجاز سرگرمیوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیاتی تباہی، آبی آلودگی، زمین کی بگاڑ، عوامی صحت کو خطرات، اور امن و امان میں شدید خلل پیدا ہو رہا تھا۔
ڈپٹی کمشنر کرک جناب اسد سرور کی خصوصی سفارش پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت ضلع کرک میں تمام غیر مجاز کان کنی اور گولڈ نکالنے کی سرگرمیوں پر فوری طور پر ساٹھ (60) دنوں کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق:
* کسی بھی شخص یا ادارے کو ضلع کرک کی حدود میں غیر قانونی طریقے سے سونے کی تلاش یا کان کنی کی اجازت نہیں ہوگی۔* خلاف ورزی کی صورت میں مشینری، گاڑیاں، اوزار اور دیگر سامان ضبط کیا جائے گا۔* خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔
یہ اقدام درج ذیل اہداف کے حصول کے لیے اٹھایا گیا ہے:
* مقامی آبادی کے جان و مال کا تحفظ* ماحولیاتی نظام کی بقاء* امن و امان کا قیام* غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام
حکومتِ خیبر پختونخوا عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک یا غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں
Quick Links
About Government
Important Links
Explore Us